ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / راجستھان: پیشی کے لیے حاضر ہوئے آسارام کی قدموں میں گر گئے سابق چیف جسٹس 

راجستھان: پیشی کے لیے حاضر ہوئے آسارام کی قدموں میں گر گئے سابق چیف جسٹس 

Mon, 18 Dec 2017 00:03:00    S.O. News Service

جے پور 17دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) ایک طرف خواتین کی حمایت کی بات کی جاتی ہے تودوسری طرف جنسی تشددکے ملزم سے آشیروادبھی لیاجارہاہے۔ نابالغہ اسکولی طالبہ سے عصمت دری کے ملزم روحانی پیشوا آسارام کے عقیدت مندوں میں روز بروز اضافہ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔موصولہ اطلاع کے مطابق جب زانی بابا آسارام عدالت میں پیشی کے لیے حاضر ہوئے توجودھپور کورٹ کے سامنے سکم ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور سابق گورنر سندر ناتھ بھارگو ریپ کے ملزم آسارام کے قدموں میں گرتے ہوئے نظرآئے۔انڈیاٹوڈے کے مطابق کل ہفتہ 16 دسمبر کو جب آئی ٹی ایکٹ اور جنسی تشدد کے دو مختلف مقدمات میں ماخوذریپ کے ملزم آسارام کی پیشی ہوئی تو کورٹ کے داخلی دروازہ پر سابق چیف جسٹس سندر ناتھ بھارگو کھڑے تھے۔ جیسے ہی آسارام کو پولیس اہلکاروں نے جیل کے وین سے نیچے اتارا، وین کے آگے ہی سابق چیف جسٹس سندر ناتھ نے آسارام کے پاؤں چھوکر ایک مبینہ زانی کا’’ آشیرواد ‘‘ لیا ۔ نہ صرف یہ کہ بھارگو کے سرکاری سیکوریتی اہلکاروں نے بھی آسارام کے پاؤں چھوکر آشیرواد لیا ۔ یہ تصویر وائرل سوشل میڈ یا پر وائرل ہور ہا ہے ۔ جب اس معاملے میں جسٹس بھارگو سے سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ کسی پروگرام میں شامل ہونے کے لئے جودھپور آئے تھے، لیکن جب انہیں یہ پتہ چلا کہ آسا رام کو سماعت کے لئے عدالت لایا جائے گا، تب وہ آسارام کے درشن کے لیے عدالت پہنچ گئے ۔ وہیں جب سماعت کے بعد آسارام کورٹ سے باہر نکلے تو صحافیوں نے جب ان سے اس پس منظر میں سوال کیا تو انہوں نے برملا کہا کہ جسٹس بھارگو ہمارے قدیمی عقیدت مند ہیں ہم انہیں طویل عرصے سے جانتے ہیں۔ ان کو ملنے کی خواہش ہوئی تو وہ ملاقات کے لیے آ گئے ۔ ان کی عدلیہ میں بھی اچھی گرفت ہے ، جو کچھ ہوگا اچھا ہی ہوگا ۔ بتا دیں کہ ستمبر 2013 میں آسا رام اور ان کے بیٹے نارائن سائیں کو عصمت دری اور بچوں کے جنسی استحصال کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور دونوں اس کے بعد سے جیل میں ہیں. آسارام نے کئی بار کورٹ میں ضمانت کی درخواست لگائی ہے، لیکن ان کی ضمانت کی درخواست کو عدالت نے مسترد کر دیا۔ اس کے بعد بہت سے خواتین بھی سامنے آئیں جنہوں نے آسارام پر ریپ کاالزام لگایا تھا ۔ 


Share: